7

خادم حسین رضوی کے نماز جنازہ میں لاکھوں افراد شریک،آہوں اورسسکیوں میں سپرد خاک

خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کے موقع پر لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ
لاہور: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک لاہور میں ادا کی گئی جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

خادم حسین رضوی کے صاحبزادے حافظ سعد حسین رضوی نے نمازجنازہ پڑھائی۔ جنازے میں رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن سمیت کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ اس موقع پر ہرآنکھ اشکبار تھی۔ خادم حسین رضوی کی تدفین ان کی مسجد رحمت العالمین کے مدرسے ابوذر غفاری میں کی گئی۔

تحریک لبیک کے مطابق جنازے میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ شریک تھے جبکہ حکومتی اداروں اور میڈیارپورٹس کے مطابق 5 لاکھ کے قریب لوگوں نے نمازجنازہ میں شرکت کی اوریہ لاہور کی تاریخ کا ایک بڑا جنازہ تھا۔

نہ صرف گریٹر اقبال پارک تحریک لبیک کے کارکنان، عقیدت مندوں اور مریدین سے بھرگیا تھا جس کی وجہ سے پارک میں داخلے کے تمام دروازے بند کردیے گئے۔ بلکہ بادشاہی مسجد سے ملحق گراؤنڈ، شاہی قلعہ گراؤنڈ میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔

دوسری طرف داتا دربار سے مینار پاکستان اور پھر بتی چوک تک ہزاروں افراد نمازجنازہ کی ادائیگی کے لئے سڑکوں پرموجود تھے۔ قریبی گھروں ،دکانوں اورپلازوں کی چھتوں سمیت آزادی فلائی اوور بھی لوگوں کا جم غفیرتھا۔ دو موریہ پل سے گاڑیوں کا داخلہ بند کرکے جنازے میں شرکت کے لئے پیدل جانے والوں کواجازت دی گئی۔

خادم حسین رضوی کی میت کو ایمبولینس میں مسجد رحمت اللعالمین سے گریٹر اقبال پارک لایا گیا۔ نماز جنازہ کے لیے آنے والوں کو تلاشی کے بعد داخلے کی اجازت دی گئی۔ گراؤنڈ سے مسلسل لبیک یارسول اللہ کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔


تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان بھی پولیس کے ہمراہ سیکیورٹی پر مامور رہے اور لوگوں کو مکمل چیکنگ کے بعد اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ کورونا خدشات کے پیش نظر نمازِ جنازہ میں شریک شہریوں نے فیس ماسک کا استعمال کیا۔

راستے میں جگہ جگہ کھڑے افراد نے علامہ خادم حسین رضوی کی میت والے قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ ملتان روڈ پر زیادہ تر مارکیٹیں اور دکانیں بند رکھی گئیں اور میت والا قافلہ گزرنے کے بعد روڈ پر ٹریفک بحال ہوئی اور مارکیٹیں کھولی گئیں۔

مختلف علاقوں سے آئے کارکنوں کو مولانا خادم حسین رضوی کا آخری دیدار کروایا گیا۔ اس موقع پر کارکنوں نے تاجدارِ ختم نبوت اور لبیک یارسول اللہ کے نعرے لگائے۔ مرحوم کی رہائشگاہ کے باہر سیکڑوں عقیدت مند موجود تھے۔ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کے موقع پر شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات ہیں۔

علاوہ ازیں تحریک لبیک پاکستان کی مرکزی شوری نے علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے حافظ سعد رضوی کو نیا امیر منتخب کرلیا ہے۔ صاحبزادہ سعد رضوی نے شرکائے جنازہ سے اسلام، پاکستان اور تحریک لبیک سے وفاداری کا حلف لیا۔ علامہ خادم رضوی کی روح کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کل صبح 9 بجے جامع مسجد داتا دربار میں ہوگی۔

صاحبزادہ سعد رضوی نے نمازجنازہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم علامہ خادم رضوی کے مشن کو آگے لیکر بڑھیں گے،گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر کبھی بھی خاموش نہیں رہیں گے،اپنے والد کی نصیحت اورسبق لیکر آگے بڑھیں گے، یہ گردنیں حضور ﷺ کی ناموس کی خاطر ہروقت کٹنے کوتیار ہیں، امیرالمجاہدین کے مشن کو آگے لیکر بڑھیں گے، آج علامہ خادم حسین رضوی کی وفات پر خوش ہونیوالے کوبتاناچاہتے ہیں تمھاری خوشیاں غم میں بدل دیں گے،اسلام اورپاکستان کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں