89

حکومت نے پٹرول بحران کے خاتمے کیلئے آئل کمپنیوں اور ریفائنریزکا مطالبہ مانا

اسلام آباد: حکومت نے پٹرول مہنگا کیوں کیا؟، وجوہات سامنے آ گئیں، پٹرول بحران کے خاتمے کیلئے آئل کمپنیوں اور ریفائنریزکا مطالبہ مانا گیا ۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پی ایس او کو یومیہ 1ارب روپے نقصان سے نکالا گیا ، جولائی میں صارفین سے 75 ارب روپے وصول کئے جائیں گے، حکومت جولائی میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 45 ارب روپے وصول کرے گی۔ حکومت کو جی ایس ٹی 8 ارب روپے اضافے سے 25ارب روپے ملے گا۔
آئندہ مالی سال پٹرولیم لیوی کی مد میں 450 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے ، رواں مالی سال میں عوام سے پٹرولیم لیوی وصولی کا ہدف 250 ارب روپے تھا۔ ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی کی مد میں 5 ارب روپے سے زائد رقم وصول کی جائے گی ، آئندہ مالی سال پٹرولیم مصنوعات کے صارفین کیلئے انتہائی بھاری ثابت ہوگا۔ عوام کو سستے تیل کیلئے خون کے آنسو رلانے والی کمپنیوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں آ گئیں ، ذرائع کے مطابق چند روز قبل آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے سستا تیل درآمد کیا گیا۔ شیل پاکستان نے 35 ہزار ٹن کا کارگو جہاز درآمد کیا ، حیسکول نے بھی 35 ہزار ٹن کا تیل سستے داموں درآمد کیا ، پی ایس او نے 45 ہزار ٹن کا آئل ٹینکر درآمد کیا ۔ وافر مقدار میں ذخائر کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا، قیمتوں میں اضافے کا اطلاق نئی درآمد پر ہونا چاہئے تھا ، ذخائر پر قیمت بڑھانے سے او ایم سیز اور حکومت کے ریونیوں میں اضافہ ہوگا ۔پٹرول مہنگا ہونے سے شہریوں کو مہنگائی کا دگنا عذاب بھگتنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں