189

حسن کی کمرجلد بولنگ کا بوجھ اٹھانے لگے گی

لاہور: حسن علی کی کمرجلد بولنگ کا بوجھ اٹھانے لگے گی،آپریشن کے بغیر ہی پیسر کی صحتیابی کا امکان ہے، ورچوئل ری ہیب سیشن میں مثبت پیش رفت سامنے آگئی، سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم پیسر کو پی سی بی طبی معاونت کے ساتھ مالی امداد بھی فراہم کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق حسن علی گذشتہ سال ستمبر میں انجرڈ ہوکردورئہ آسٹریلیا سے باہر ہوگئے تھے، بحالی فٹنس کے بعد وہ قائد اعظم ٹرافی کے دوران پھر ان فٹ ہو گئے،پھر مکمل صحتیاب ہوکر پی ایس ایل میں شریک ہوئے، اپریل کے آخر میں پی سی بی میڈیکل پینل نے کمر کے نچلے حصے میں شدید دباؤ کی تشخیص ہوئی، گذشتہ روز پی سی بی کی پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ حسن علی نے ورچوئل ری ہیب سیشن میں مثبت پیش رفت کی ہے، طبی ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ انھیں سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی،وہ توقعات سے قبل ہی مسابقتی کرکٹ میں واپس آسکتے ہیں، گذشتہ ہفتے 2 گھنٹوں پر محیط آن لائن ری ہیب سیشن کی نگرانی لاہور کے نیوروسرجن آصف بشیر، آسٹریلیا میں مقیم اسپائنل تھراپسٹ پروفیسر پیٹر او سولیون اور پی سی بی میڈیکل ٹیم نے کی، پینل آئندہ5 ہفتے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد کوئی دوسرا قدم اٹھانے کا فیصلہ کرے گا۔

پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ اسپورٹس سائنسز ڈاکٹر سہیل سلیم کا کہنا ہے کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں حسن علی کا 2 مرتبہ انجریز کا شکار ہونا کوئی معمولی بات نہیں، فی الحال انجری کی علامات کی واپسی کے کوئی اثرات ظاہر نہیں ہوئے تاہم یہ ری ہیب پروگرام کے ابتدائی ایام ہیں، ہم کیس کا جائزہ لیتے رہیں گے، دوسری جانب پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم حسن علی کی مالی معاونت کرے گا۔
چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے کہاکہ حسن علی ہمارا اثاثہ اور چیمپئنز ٹرافی 2017 فتح کے ہیروز میں شامل ہیں، پیسر کو ہماری ضرورت اور ان حالات میں ان کی مدد کرنا پی سی بی کی ذمہ داری ہے، حسن علی کی ابھی بہت کرکٹ باقی ہے، بورڈ انہیں مکمل فٹ اور قومی کرکٹ ٹیم میں واپس دیکھنا چاہتا ہے، انھیں مکمل طبی معاونت اور ویلفیئر فنڈ سے مالی امداد بھی فراہم کرینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں