72

جنوبی افریقہ نے گورے کے کالے کرتوت چھپا لیے

لاہور: جنوبی افریقہ نے گورے کے کالے کرتوت چھپا لیے جب کہ کرکٹ بورڈ نے فکسنگ کیس میں جارسویلڈ کو خصوصی رعایت دینے کا الزام مسترد کر دیا ہے۔ 2015ء میں جنوبی افریقی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے دوران سامنے آنے والے فکسنگ اسکینڈل میں انٹرنیشنل کرکٹر سمیت7 افراد ملوث پائے گئے، 18 ماہ تک آزادانہ تحقیقات کے بعد2کو20 سال تک پابندی کی سزائیں سنائی گئیں، ان میں شامل ایک سیاہ فام کرکٹر تھامی سول کائل نے گذشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں الزام لگایا تھا کہ فکسنگ کیس کے مرکزی کردار غلام بودی نے سب سے پہلے وان وین جارسویلڈ سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے بورڈ کو آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا،ڈومیسٹک کرکٹر کریگ الیگذینڈر بھی ملوث تھے۔ ان دونوں کو گورا ہونے کی وجہ سے چھوٹ مل گئی جبکہ دیگر کو سخت سزائیں دی گئیں، پینڈورا باکس کھول دیے جانے کے بعد جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک سابق جج برنارڈ نے معاملے کی مکمل چھان بین کی،اس عمل میں کسی گورے یا کالے کی کوئی تفریق نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جارسویلڈ اور کریگ الیگزینڈر کی نشاندہی پر ہی ڈومیسٹک کرکٹ کا اتنا بڑا اسکینڈل منظر عام پر آیا، کرکٹ ساؤتھ افریقہ کھیل کی ساکھ کے حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی رعایت برتنے کے حق میں نہیں، دونوں کھلاڑیوں نے مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کر کے بورڈ کی معاونت کی جس پر کرکٹ برادری ان کی شکر گزار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں