91

تھانوں میں شہریوں کو عزت کون دے گا؟

تحریر: احتشام بشیر
پولیس ایک ایسا محکمہ ہے جو ہر دور میں تنقید کی زد میں رہا۔ اس کی کیا جوہات ہیں یہ سب کے سامنے ہیں۔ اس کے اسباب جاننے کےلیے کسی لمبی چوڑی بحث یا لمبی لمبی مثالیں دینے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی تھانے کا خیال ذہن میں آتے ہی ایک خوف سا طاری ہوجاتا ہے۔ پولیس وردی میں ملبوس اہلکار سامنے آتے ہیں تو ایک شریف آدمی کے تو ویسے ہی اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔
پولیس کے رویے نے اتنا خوف طاری کردیا ہے کہ پولیس کا نام ہی ایک خوف کی علامت بن گیا ہے۔ کسی بھی جرم، ظلم کے خلاف جب کوئی شہری پولیس کے پاس رپورٹ لے کر جائے اور اس کے ساتھ ہونے والے ظلم میں دادرسی کے بجائے لیت و لعل سے کام لیا جائے، اس کی دادرسی کے بجائے اسے قانونی الجھنوں میں الجھا دیا جائے، مظلوم کے بجائے طاقتور کا ساتھ دیا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں تو پھر انگلیاں تو اٹھتی ہیں۔ کسی بھی رپورٹ کے اندارج کےلیے تھانے جانے کی ضرورت پڑے تو ادھر ادھر سفارش ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ کسی غریب آدمی کو تھانے جانے کی ضرورت پڑے تو تھانے جانے سے قبل وہ سو بار اس بارے میں سوچتا ہے کہ کیسے اپنی عرضی پیش کرے گا؟ تھانے جانے کے نتائج کیا نکلیں گے؟ کیا اس کی جیب اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ تھانے آنے اور جانے کے دوران خرچہ برداشت کرسکے؟
تھانے کے چکر سے بچنے کےلیے اسی لیے بہت سے معاملات تھانے سے باہر ہی حل کرنے پڑتے ہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس نے دھرتی پر امن کے قیام کےلیے جان و مال کی قربانی دی ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانی دینے والے پولیس اہلکاروں کی داستانیں موجود ہیں لیکن محکمے میں کوئی نہ کوئی ایسا اہلکار ہوتا ہے جو پورے محکمے کےلیے بدنامی کا باعث بنتا ہے۔ جیسے ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندا کردیتی ہے، اسی طرح چند پولیس اہلکاروں کے رویے سے پورا پولیس محکمہ بدنام ہوتا ہے۔ تھانے میں ہونے والے ظلم کی داستانیں بھری پڑی ہیں۔
2013ء کے انتخابات میں خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کو پہلی بار کامیابی ملی اور حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تو اس وقت عمران خان نے محکمہ پولیس میں بہتری پر توجہ دی۔ پولیس ریفارمز کے نام پر قانون بنائے گئے، اختیارات کے تقسیم کی بات کی گئی اور پھر دعوے کیے گئے کہ تبدیلی کی اس حکومت میں پولیس کے رویے بھی تبدیل کردیے گئے ہیں۔ پولیس کو سیاست سے پاک کردیا گیا ہے۔ پولیس کی تعیناتی اور تبادلوں میں سیاست کا اثر و رسوخ ختم کردیا گیا ہے اور پھر پولیس کےلیے نعرہ بنادیا گیا کہ ’’پہلے سلام پھر کلام‘‘۔ لیکن تھانوں میں مظلوم کے ساتھ ہونے والا رویہ پھر بھی تبدیل نہ ہوا۔
پی ٹی آئی نے اپنی مقبولیت کےلیے سوشل میڈیا کا خوب سہارا لیا۔ ویسے ہی پولیس کے رویے بھی سوشل میڈیا کی حد تک تبدیل ہوتے نظر آئے، لیکن حقیقت میں پولیس کا رویہ وہی روایتی رہا جیسے زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلی کے دعوے سوشل میڈیا پر نظر آئے اسی طرح پولیس میں تبدیلی بھی سوشل میڈیا پر دکھائی دینے لگے۔
چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں عامر تہکالے نامی شہری نے دوستوں کے ساتھ ایک محفل میں پولیس اہلکاروں اور افسران کو گالیاں دیں۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد عامر تہکالے کو گرفتار کرلیا گیا اور پولیس کی زیر حراست اس شہری کی ویڈیو جاری کی گئی، جس میں اس نے اپنی حرکت پر معافی مانگی جبکہ عدالت سے اس ضمانت بھی مل گئی۔ عامر تہکالے کی ضمانت کے کچھ روز بعد ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں عامر نامی شہری کی گرفتاری کے وقت اس کو برہنہ کرکے تشدد کیا گیا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کس طرح غیر انسانی طریقے سے عامر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پولیس افسران اور اہلکاروں کو گالیاں دینے کی ویڈیو وائرل کرکے غلط کیا گیا۔ اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن جو رویہ پولیس کی جانب سے عامر تہکالے کے ساتھ کیا گیا اس کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز نہیں۔ پولیس کے زیر حراست ایک شہری کے ساتھ اس طرح غیر انسانی سلوک پر ہر شہری نے آواز اٹھائی۔ چند پولیس اہلکاروں کے اس غیر انسانی رویے نے پورے محکمے کو بدنام کردیا۔ ہر کوئی پولیس کے اس رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرنے لگا۔ پولیس اہلکاروں کے اس غیر انسانی، غیر اخلاقی رویے پر نہ اس صوبے بلکہ ملک میں بسنے والے ہر شہری نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر ملک سے باہر رہنے والوں نے بھی ایک شہری کے ساتھ ہونے والے اس رویے کی مذمت کی۔ ایسے انسانیت سوز واقعے کے خلاف سول سوسائٹیز کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

تھانوں میں شہریوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ ڈھکی چھپی بات نہیں۔ تھانوں کے ٹارچر سیلوں میں کیا رویہ اپنایا جاتا ہے، وہ ہمارے سامنے ہے۔ لیکن سوشل میڈیا اور موبائل کے اس دور میں اب پولیس کے ظلم کی داستانیں عام ہونے لگی ہیں۔

تھانے میں ایک شہری کے ساتھ ہونے والے اس رویے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو پولیس افسران بھی حرکت میں آئے۔ اس سے قبل عوام کا غم و غصہ مزید بڑھتا، واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے اور گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھی ہوش میں آئے اور انہوں نے آئی جی پولیس کو اپنے دفتر بلاکر اس معاملے میں سخت کارروائی کا حکم دیا۔ معاملہ پارلیمان میں بھی پہنچا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں اس معاملے پر اپوزیشن ارکان نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی نے سینیٹ میں بھی اس معاملے پر بات کی۔

حکومتی نمائندوں سمیت ہر کوئی اس غیر انسانی سلوک کی مذمت بھی کررہا ہے۔ پولیس افسران تھانے میں ہونے والے ایسے انسانیت سوز واقعے پر نادم بھی ہیں۔ ایس ایس پی آپریشن بھی اسی معاملے میں عہدے سے ہٹادیے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے غیر انسانی سلوک میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان بھی کیا ہے اور یقین بھی کرلیتے ہیں کہ ذمے دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے گی۔ لیکن جس طرح عامر کے ساتھ غیر انسانی و غیر اخلاقی رویہ اپنایا گیا اور پھر ویڈیو بناکر اسے وائرل کیا گیا اس کی عزت نفس کون بحال کرے گا؟

تمام اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ تھانوں میں ہونے والے ظلم کی داستانوں کا معاملہ پارلیمان میں اٹھایا جائے۔ پولیس کے ایسے رویے کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ایسے رویے اپنانے پر سزائیں تجویز کرنی چاہئیں۔ اگر پولیس اہلکاروں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے گا اور شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھنے والوں کو سزائیں ملیں گی تو تھانوں میں شہریوں کی بھی عزت ہوگی۔(بشکریہ ایکپریس نیوز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں