110

توشہ خانہ ریفرنس، نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

اسلام آباد: احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں مسلسل عدم پیشی پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 3 کے جج سید اصغر علی نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی، نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی ، تفتیشی افسر اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی عدالت کے روبرو پیش ہوئے جب کہ نواز شریف اور آصف زرداری پیش نہیں ہوئے۔
سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی۔ جس میں استدعا کی گئی ہے کہ کورونا کی وجہ سے بار بار پیش ہونا مشکل ہے اس لیے استثنیٰ دیا جائے۔
فاروق ایچ نائیک نے آصف زرداری کی طرف سے وکالت نامہ جمع کراتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کراچی میں ہیں اور بیمار ہیں، انہیں ذاتی حیثیت میں طلب نہ کیا جائے، انہوں نے پہلے بھی مقدمات کا سامنے کیا ہے، وہ کہیں نہیں بھاگیں گے۔ عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کی آج کی حاضری سے استثنی ٰکی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے ملزم نواز شریف کے ملک سے باہر ہونے سے متعلق قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی استدعا کی۔ جس پر عدالت نے نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے دفترخارجہ کو برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانےکے ذریعے وارنٹس کی تعمیل کا حکم دے دیا۔

یوسف رضا گیلانی پر آصف زرداری اور نواز شریف کو غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔ اس ریفرنس میں اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

نیب ریفرنس کے مطابق آصف زرداری اور نواز شریف نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد قیمت ادا کر کے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کیں۔ یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سہولت فراہم کی اور تحائف کو قبول کرنے اور ضائع کرنے کے طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر نرم کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں