39

تفتیشی افسران سنگین مقدمات کو بھی کمزور بنانے لگے

کراچی: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ایک بار پھر پولیس تفتیش ناقص قرار دیدی جب کہ تفتیشی افسر علی حیدر کی سنگین غلطیوں کی وجہ سے مقدمہ کمزور ہوا۔ عدالت نے کالعدم داعش کے فنڈنگ کے مقدمے میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کو تفتیشی افسر اور ہیڈ کانسٹیبل ماجد خان کیخلاف انکوائری کرکے 30 دن میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا، عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم سلیم احمد کو مجموعی طور پر ساڑھے 5 سال قید بامشقت کی سزا سنادی۔ سینٹرل جیل کے انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نمبر 12 نے کالعدم تنظیم داعش کے لیے فنڈنگ کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا، عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم سلیم احمد کو مجموعی طور پر ساڑھے 5 سال قید اور 20 ہزار جرمانہ کی سزا سنادی، عدالت نے حکم دیا کہ مجرم کو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 8 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ سی ٹی ڈی کے مطابق مجرم سلیم احمد کو کراچی ایڈمن سوسائٹی سے گرفتار کیا تھا، مجرم سلیم احمد اس سے قبل بھی کالعدم تنظیم سے روابط پر گرفتار ہوچکا ہے، مجرم کے خلاف قائم جے آئی ٹی نے بھی مجرم کو ‘‘گرے’’ قرار دیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 12 نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس تفتیش کو ناقص قرار دیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ تفتیشی افسر نے مقدمے سے متعلق دستاویزات میں سنگین غلطیاں کیں، تفتیشی افسر نے استغاثہ کے گواہ کے بیان میں غلط نام کا اندراج کیا، پولیس نے مجرم کی نشاندہی پر برآمدگی کو بھی مشکوک بنایا، عدالت نے مقدمے کے تفتیشی افسر علی حیدر اور ہیڈکانسٹیبل ماجد خان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کو انکوائری کی رپورٹ 30 دن میں جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تفتیش میں سنگین غلطیاں کرکے استغاثہ کا مقدمہ کمزور کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں