22

بلاول بھٹو سے التماس

واصب امداد
’’بلاول بھٹو ایک نہ ایک دن پاکستان کے وزیراعظم ضرور بنیں گے‘‘۔ پہلا جملہ اگر آپ کو مضحکہ خیز لگا تو یاد کیجیے، کسی زمانے میں میانوالی کی ایک نشست والے خان صاحب پر بھی یہ جملے کسے جاتے کہ وہ اپنی پارٹی کا اکیلا کھلاڑی ہے، جو خود ہی گیند کراتا ہے، کرائی ہوئی گیند پر خود ہی شاٹ مارتا ہے، اور شاٹ مار کر بلا پھینک کر دوڑ کر آپ ہی اپنا چوکا روکتا ہے۔ گو کہ میرے خیال میں یہ جملہ آج بھی خان صاحب کی سیاسی زندگی پر پورا اترتا ہے مگر لوگ تحریک انصاف میں اور لوگوں کو بھی ہیرو سمجھ بیٹھے ہیں تو چلیے، مان لیتے ہیں۔ بہرحال میری آج کی تحریر بلاول بھٹو کےلیے ہے، جنہیں میں مستقبل میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوتا دیکھ رہا ہوں۔
پاکستانی سیاست کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہاں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ جس سیاست کے بارے میں چوہدری برادران جیسے سیاسی گرو یہ کہتے ہوں کہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، تو پھر میں اور آپ کیسے کوئی بات دائمی قرار دے سکتے ہیں۔ میں سیاسی گرو تو نہیں مگر سیاست کا ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے بلاول کی ہر پریس بریفنگ غور سے سنتا ہوں۔ وہ کیا کہتے ہیں، کیسے کہتے ہیں؟ کس بات پر غصہ ہوتے ہیں؟ کس بات پر چہرے کے کیا تاثرات ہوتے ہیں؟ ان کی ملکی و بین الاقوامی ایشوز پر کیا رائے ہے اور وہ رائے کیسے قائم ہوئی؟ ان تمام معاملات پر میری گہری نگاہ ہے۔ ظاہری سی بات ہے، میں جس شخص کو وزارتِ عظمیٰ کا اگلا نہیں تو اس سے اگلا انتخاب دیکھ رہا ہوں، تو اس کی گروتھ کو کیسے نظر انداز کرسکتا ہوں۔ تمام چیزیں دیکھنے کے بعد میں چند تجاویز مرتب کرنے کے قابل ہوا ہوں، جو میرے نزدیک اگر بلاول بھٹو مان لیں تو وہی، جی ہاں، وہی اکیلے مجھے نہیں بلکہ جلد آپ کو بھی وزیرِاعظم کی کرسی پر براجمان ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔
بلاول بھٹو اول تو کوشش کریں کہ عوامی سطح کے لیڈر بنیں۔ ان کی گفتگو میں لسانیت اور صوبائی سیاست کا رنگ نہایت گہرا ہے جو ان کے قومی لیڈر بننے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ بھٹو مرحوم کے دور میں پنجاب، سندھ اور مرکز پیپلز پارٹی کا سیاسی گڑھ سمجھے جاتے۔ بی بی کی حیات تک معاملات گرفت میں رہے مگر زرداری کی بیڈ گورننس کے باعث اسے محض سندھ تک محدود ہونا اور سکڑنا پڑا۔ حالیہ انتخابات میں تو صرف کراچی اور لاڑکانہ میں گہری چوٹ لگی مگر آئندہ زخم مزید پھیل سکتا ہے۔ عوام میں نچلی سطح تک یہ تاثر بہت گہرا ہے کہ پیپلز پارٹی اور کرپشن لازم و ملزوم ہیں۔ بلاول بھٹو کوشش کریں کہ اس داغ کو دھوئیں۔ سیاسی قیادتوں پر الزامات لگنا کوئی نئی بات نہیں، مگر ان الزامات سے بروقت جان چھڑانا ضروری ہوتا ہے، نہیں تو وہ آسیب بن کر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے چمٹ جاتے ہیں۔ یہ داغ دھونا آسان ہے اگر بلاول بھی کرپشن کے خلاف ’خان صاحب‘ ماڈل اپنائیں۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ مگر احتساب کے بارے میں میرا کہنا یہ ہے کہ احتساب بیشک نہ ہو مگر ہوتا ہوا نظر آئے تو معصوم عوام آپ کو اپنا مسیحا گردانتے دیر نہیں لگاتے۔ یوں بلاول بھٹو رسماً ہی سہی، سندھ میں صوبائی وزرا سے کہیں کہ کرپشن کے خلاف اب سے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ پھر عوام کو دکھانے کےلیے ہی سہی دو چار وزرا کے قلمدان تبدیل کرلیں اور ایک آدھ کو کرپشن کے خلاف تحقیقات کروا کر فارغ کردیں تو معاملات سہل ہوسکتے ہیں۔
گو کہ والد اور والدہ کی تصویر لگا کر جلسہ عام سے خطاب کرنا، انٹرویو دینا کوئی بری بات نہیں، مگر کوشش کیجئے کہ عوام اور مقتدر حلقوں میں خود کو ایک مکمل اور مستند متبادل کے طور پر منوائیں۔ لوگ آپ میں اگلی بینظیر اور اگلا بھٹو نہ دیکھیں، لوگ آپ میں پہلا بلاول اور اگلا وزیرِاعظم دیکھیں۔ اپنے والد سے کہیں کہ اب وہ بیک سیٹ لیں، پیچھے رہ کر معاملات پر نظر رکھیں اور زیادہ وقت آرام کرتے گزاریں اور بلاول خود عملی سیاست میں ایسے دکھائی دیں کہ لوگ کہنے پر مجبور ہوں اور کیڑے سے ریشم پیدا ہونے کی مثال پر غور کریں۔ بلاول بھٹو اپنا طرزِ زندگی بدلیں۔ عام آدمی کا بوجھ ڈھوئیں، آئیں حلقے اور میدان عمل کی سیاست کریں۔ بلاول کے رہن سہن سے لے کر عمومی بول چال تک، وہ عام آدمی کی زندگی سے کوسوں دور ہیں۔ عوام کسی صورت ان سے کوئی جذباتی تعلق استوار کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ بلاول بھٹو پسینہ بہائیں، پروٹوکول ترک کریں اور آئیں چائے ڈھابے اور تھانہ کچہری میں لوگوں سے گھل مل جائیں۔ ان کے مسائل سنیں، ماؤں بہنوں کے سر پر ہاتھ پھیرنے والا بنیں، مزدوروں کے ساتھ مٹی میں مٹی ہوجائیں اور بزرگوں کے قصے کہانیاں سننے والا بنیں۔ یقین مانیے عوام جس حد تک پریشان ہیں، وہاں کوئی بھی ان کا ہاتھ تھامنے والا اور امید کے دو بول بولنے والا بنے، یہ عوام اس کے ہوجائیں گے۔
بلاول بھٹو کوشش کریں کہ پاکستان کی بات کریں۔ عوام کو اپنا پلان بتائیں۔ سندھ میں محدود پیمانے پر وہ پلان لاگو کریں۔ عوام کو بتائیں کہ ماضی میں جو ہوا سو ہوا، مگر اب وہ ایک نئے سفر اور نئے راستے کے مسافر ہیں۔ وہ عمران خان کے والد اور ان کی بہن پر جملے بازی نہ کریں، بلکہ اپنا معاشی پلان عوام کے سامنے رکھیں۔ نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کی کوئی اسکیم لے کر آئیں اور غریب عوام کی آسانی کے لیے کوشاں دکھائی دیں۔ ملک بھر میں دورے کریں۔ پیپلز پارٹی کا انتظامی ڈھانچہ مضبوط کریں اور نچلی سطح تک فعال کریں۔ ہفتے اور مہینے کی رپورٹس لیں۔ نئی صف بندی کریں اور نئے چہرے سامنے لائیں۔ یوتھ کو اپنے ساتھ ملائیں اور انہیں احساس دلائیں کہ وہ ان ہی میں سے ایک ہیں، ان ہی کی وجہ سے ہیں اور ان ہی کےلیے ہیں۔ جہاں ملک میں شوکت عزیز، میر ظفراللہ خان جمالی اور راجہ پرویز اشرف جیسے تجربات کیے گئے، وہاں ہمارے التماس پر عمل پیرا، ایک تبدیل بلاول بھٹو کیوں نہیں؟


واصب امداد
(بشکریہ ایکسپریس نیوز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں