224

این ایف سی ایوارڈ آئی ایم ایف کے سامنے گروی رکھ دیا گیا: رضا ربانی

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کو آئی ایم ایف کے سامنے گروی رکھ دیا گیا۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سٹیل مل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وجود میں آئی۔ ماضی میں بھی سٹیل مل مالی بحران کا شکار ہوئی، عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران سٹیل مل بحال کرنے کا وعدہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے سٹیل مل کی نجکاری کی بھی مخالفت کی۔ موجودہ وزیر نجکاری نے بھی ویڈیو ریکارڈ رکھنے کا کہا۔ کہتے رہے سٹیل مل کی نجکاری ہوئی تو مزدوروں کے ساتھ کھڑا ہونے کا وعدہ کیا۔ سٹیل مل کی نجکاری کا فیصلہ کابینہ میں ہوا۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ اسٹیل مل کی نجکاری کرنے کی مجاز نہیں ہے، مشترکہ مفادات کونسل کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ سٹیل مل کے حوالے سے پالیسی واضح نہیں ہے کہ اس کا مستقبل کیا ہے۔ سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سٹیل مل کو نجکاری کی فہرست میں بھی رکھا گیا ہے، پہلے ایک بیان آیا تھا کہ سٹیل مل نجکاری فہرست میں نہیں ہے۔ اگر واقعی سٹیل مل کی نجکاری کا فیصلہ ہوا ہے تو بتائیں کہ فیصلہ کس فورم پر ہوا ہے۔ مشرف دور میں بھی سٹیل مل فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرف دور میں سپریم کورٹ نے سٹیل مل کی فروخت رکوا دی تھی، سٹیل مل کی حالت اچھی نہیں تو بغیر ٹینڈر سیکیورٹی نظام نجی کمپنی کو کیوں دیا۔ 72 لاکھ روپے ماہانہ سیکیورٹی کمپنی کو کیسے ادا کررہے ہیں۔

پی پی سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کو آئی ایم ایف کے سامنے گروی رکھ دیا گیا، ملازمین کے بقایا جات ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، دیگر اخراجات کے لئے رقم کہاں سے آرہی ہے، سٹیل مل کے حوالے سے حقائق پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں، سٹیل مل میں فوری طور پر سی ای او تعینات کیا جائے، کسی ایسے شخص کو یہ عہدہ دیا جائے جو متعلقہ شعبے کا ہو، بورڈ آف گورنرز میں سے غیر متعلقہ افراد کو نکالا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں