14

ایسی نوبت ہی کیوں آئی؟

تحریر: محمد عمران چوہدری

اگر ہم ہندوستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو پاکستان مخالف بیانیہ کو ہمیشہ پذیرائی حاصل رہی ہے۔ مثال کے طور 1967 کے انتخابات میں کانگریس نے پاکستان مخالف بیانیے کی بدولت 283 نشستیں جیت کر حکومت بنائی تو اسی بیانیہ کی بدولت 1971 میں 352 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ کارگل اِنکاؤنٹر کے بعد ہونے والے انتخابات سے پہلے بی جے پی کی حکومت نے بھی پاکستان مخالف بیانیہ خوب بیچا۔ موجودہ وزیراعظم مودی بھی پاکستان مخالفت کا منجن بیچنے میں کامیاب رہے۔ ایک موقع پر انہوں نے ہریانہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کو وہ مزہ چکھاؤں گا جو اس نے پچھلے ساٹھ سال میں نہیں چکھا ہوگا۔ الغرض جس نے بھی پاکستان کے خلاف بات کی اس نے پذیرائی حاصل کی۔

اس سے ملتی جلتی صورت حال آج کل پاکستان میں ہے۔ آج کل پاکستان میں جو حکومت کے خلاف بولتا ہے وہ نہ صرف عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے بلکہ خبروں کی زینت بھی بن جاتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ندیم افضل چن ہیں، جنہوں نے سیاسی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کابینہ کے اجلاس میں چینی مہنگی ہونے پر آواز بلند کی۔ انہوں نے انکوائری کمیشن کو چینی مہنگی ہونے کا ذمے دار ٹھہرایا اور کہا کہ شہزاد اکبر چینی مافیا کے خلاف انکوائری کے نام پر دھوکا دیتے رہے۔ اپنی اس ’’جرأت‘‘ کی بدولت وہ گزشتہ ایک ہفتے سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی ٹاک شوز، نجی یوٹیوب چینلز، سوشل میڈیا، ہر جگہ پر ان کی تعریف کی جارہی ہے کہ انہوں نے عوام کا درد محسوس کرتے ہوئے اپنی نوکری کی پرواہ کیے بغیر کلمہ حق بلند کیا۔

یہاں پر عرض کرتا چلوں کہ چن صاحب اس سے پہلے بھی اپنی ہی حکومت کے فیصلوں سے اختلاف کرچکے ہیں۔ ماضی قریب میں آر پی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی کو تبدیل کیے جانے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عوام دوست، ایماندار آفیسر قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ کسی طاقتور کے کہنے پر ان کو او ایس ڈی بنانا انتہائی افسوس کا مقام ہے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی بھی حکومت مخالف بیانات کی وجہ سے خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔

غور طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت حال کیوں پیدا ہوئی؟ اگر ہم پی ٹی آئی کی دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو سال میں مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ دس اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی نااہلی کی بدولت گزشتہ پانچ سال کے بعد پہلی بار انڈے اور دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 40 لاکھ سے بڑھ کر 60 لاکھ ہونے کا خدشہ ہے۔ جبکہ غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایک کروڑ سے زائد افراد بیروزگار ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت انتظامی فیصلوں میں بہتری لائے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کو روکا جائے۔ درآمدات اور برآمدات سے متعلق درست اور بروقت فیصلے کیے جائیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں حکومت نے گندم درآمد کی تاہم اس میں اتنی تاخیر کی کہ اس نے قیمتوں کی کمی میں مدد نہیں دی۔ اور آخری بات کہ اسٹیٹ بینک کو بھی اپنی مانیٹری پالیسی زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنی چاہیے کہ جس سے ایک طرف کاروباری سرگرمیاں بڑھ سکیں تو دوسری طرف مہنگائی کو بھی قابو میں رکھا جاسکے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایک چن سے ’چن گروپ‘ تشکیل پانے میں دیر نہیں لگے گی۔ کیونکہ سیاستدان چاہے وہ معاون خصوصی ہی کیوں نہ ہو، وہ بہرحال عوام کو جواب دہ ہوتا ہے اور اس نے جلد یا بدیر عوام کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ عوام کے حق میں بولے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ اور سہاروں کی محتاج موجودہ حکومت ایسے کسی گروپ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ بشکریہ ایکسپریس نیوز

محمد عمران چوہدری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں