256

اوزون ٹیکنالوجی پرمشتمل ماحول دوست دس انفیکشن گیٹ متعارف

کراچی: کراچی کے باصلاحیت نوجوان انجینئرز نے کورونا کی وبا سے تحفظ کے لیے جدید واٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اوزون ڈس انفیکشن دروازے متعارف کرادیے ہیں۔

پانی سے متعلق جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل حل (سلوشنز) فراہم کرنے و الے ادارے ’’صاف پاکستان پراجیکٹس‘‘ نے پاکستان میں پہلی بار اوزون ٹیکنالوجی پر مشتمل ماحول دوست ڈس انفیکشن گیٹ متعارف کردایے ہیں، صاف پاکستان کے سربراہ علی ضیا کے مطابق اوزون ٹیکنالوجی پر مشتمل ڈس انفیکشن گیٹ پاکستان میں پہلی بار ان کے ادارے نے تیار کیے ہیں جس میں این ای ڈی سے فارغ التحصیل میٹریل سائنس انجینئر طلحہ سلیم بھی پیش پیش ہیں جنھوں نے ملکی سطح پر پانی سے اوزون الگ کرنے کے جنریٹر تیار کیے ہیں۔

اوزونک ڈس انفیکشن دروازوں کی لاگت درآمدی ٹیکنالوجی سے70فیصد کم ہے اس دروازے کا سب سے اہم حصہ جنریٹر ہے جو پانی سے اوزون کو برقی عمل سے الگ کرتا ہے یہ جنریٹر مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے اگر یہ جنریٹر درآمد کیا جاتا تو 3 لاکھ روپے سے کم میں نہیں آتا اور دنیا کے موجودہ حالات میں جنریٹرز کی ترسیل بھی سب سے بڑا مسئلہ ہے اس مسئلے کو صاف پاکستانی پروجیکٹ نے اپنی صلاحیتوں سے دور کیا ہے، علی ضیا نے بتایا کہ کورونا کی وبا کی روک تھام کے لیے پاکستان میں زیادہ تر کلورین کے اسپرے کرنے والے ڈس انفیکشن دروازے لگائے جارہے ہیں۔
کلورین ایک کیمیکل ہے جس کا غیر محفوظ استعمال انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے پانی کی ٹیکنالوجی پر دسترس رکھنے کی وجہ سے انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ایک ایسا طریقہ متعارف کرایا ہے جو انتہائی موثر اور تیز رفتار ہونے کے ساتھ لاگت کے لحاظ سے بہت کفایت بخش اور انسانی صحت کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔

صاف پاکستان پراجیکٹس کے سربراہ علی ضیا نے بتایا کہ اوزون سے پانی کے صاف (ٹریٹمنٹ) کا طریقہ فیڈرل ڈرگ اتھارٹی سے تسلیم شدہ ہے اوزون کیمیکل سے پاک ایک قدرتی جز ہے جس سے کورونا سمیت ہر قسم کے جراثیم کا 99 فیصد تک خاتمہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور انسانی صحت کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے، یہ ٹیکنالوجی اس سے قبل سارس اور 2003 میں پھیلنے والے CoV-1 وائرس کے خلاف موثر ہتھیار ثابت ہوچکی ہے اوزون دیگر ڈس انفیکشن کیمیکلز کے مقابلے میں3 ہزار گنا تیزی سے کورونا اور دیگر وائرس کا خاتمہ کرتا ہے۔ صاف پاکستان پراجیکٹ اب تک 5 کے لگ بھگ اوزنک دروازے کراچی میں تیار کرکے نصب کرچکا ہے جو کراچی بندرگاہ کے نجی ٹرمینل، بڑے شاپنگ مال اور مساجد میں نصب کیے گئے ہیں مزید دروازوں کی تیاری کا کام جاری ہے۔
اوزون ٹیکنالوجی کے حامل ڈس انفیکشن دروازوں کی ابتدائی لاگت عام دروازوں سے زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کے ڈس انفیکشن کیمیکل کی ضرورت نہیں ہوتی اور عام پانی سے ہائیڈروجن ختم کرکے اوزون O2 کی شکل میں خصوصی برقی طریقے سے الگ کی جاتی ہے جو ایک گاڑھے یا کثیف محلول کی شکل میں ٹینک میں جمع کرلی جاتی ہے اور دروازے سے گزرنے والوں پر اسپرے کیا جاتا ہے یہ بات صاف پاکستان پراجیکٹس کے سربراہ علی ضیا نے گفتگو میں بتائی انھوں نے بتایا کہ یہ دروازہ زیادہ تر بڑے کاروباری ادارے، کارپوریٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر کے اہم ادارے تیار کروارہے ہیں۔

اوزون دروازوں کا اہم ترین کمپونینٹ اوزون جنریٹر ہے جس کی کم سے کم لاگت ہی ایک لاکھ کے آس پاس ہے اوزون ٹیکنالوجی کے حامل ڈس انفیکشن دروازے عوامی مقامات کیلیے انتہائی موزوں ہیں جہاں بڑی تعداد میں عوام کو محفوظ بنانا ہوتا ہے جن میں شاپنگ سینٹر، نمائش گاہیں، کانفرنس اور سیمینار کے لیے بڑے آڈیٹوریم کے دروازے، سرکاری دفاتر، سینیٹ، قومی اسمبلی، پارلیمان اور دیگر اہم سرکاری اور دفاعی تنصیبات اس ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔

عام دروازوں کے مقابلے میں اوزون ٹیکنالوجی کے حامل دروازوں کی آپریشنل لاگت بہت کم ہے یہ دروازے مکمل طور پر خود کار ہیں کسی فرد کے گزرنے پر اسپرے کرتے ہیں جس کے لیے دروازوں میں موشن سینسر نصب کیے گئے ہیں اس کے علاوہ خصوص سینسرز سے اسپرے کرنے کا دورانیہ بھی کم زیادہ کیا جاسکتا ہے یہ دروازے اوزون کی مقدار کے لحاظ سے مختلف سائز میں تیار کیے جارہے ہیں جن میں 30لیٹر، 60لیٹر،80لیٹر، 100لیٹر اور 300لیٹر گنجائش کے اوزون ٹینک سے منسلک دروازے شامل ہیں ان دروازوں میں اوپر اور دائیں بائیں 5 سے 10اسپرے نوزل نصب کیے جاتے ہیں تاکہ گزرنے والوں کو سرتا پیر ڈس انفیکٹ کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں