274

اناج دشمن عناصر

اکرم ثاقب

ایک زمانہ تھا کہ حکومتیں سماج دشمن عناصر کے خلاف مہم چلایا کرتی تھیں۔ آج کل حکومتیں اناج دشمن عناصر کے خلاف مہم چلانا چاہتی ہیں۔ مگر اناج دشمن عناصر ’’اناج‘‘ کے بل بوتے پر یہ مہم چلانے نہیں دیتے کہ مہم چلانے والوں کے کچن کا مسئلہ بن سکتا ہے۔

وہ بھی کیا زمانہ تھا جب کسی ذخیرہ اندوز کے خفیہ اسٹور پر چھاپہ مار کر ذخیرہ کیا ہوا مال باجگزار کرایا جاتا تھا اور کافی مقدار میں چھاپہ مارنے والوں کا حصہ بھی بن جاتا تھا اور باقی اوپر چلا جاتا تھا۔ مگر اب چھاپہ مارنے والوں کو کچھ بچتا ہی نہیں، سب اوپر چلا جاتا ہے۔ کوئی نشہ بیچتا ہوتا تو اس کے اڈے پر چھاپہ مار کر اس سے منشیات برامد کرنے کی کوشش کی جاتی۔ آج کل منشیات اپنے پلے سے ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خواہ ثابت ہو یا نہ ہو! کوئی چور بازاری کررہا ہوتا تو اسے ایسا کرنے سے منع کرنے کی جستجو کی جاتی تھی۔ آج کل ترغیب دی جاتی ہے اور موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ جب بھی موقع ملے، کوئی وبا پھوٹے، کوئی آفت آئے تو اپنے حلقے پکے کرلیے جائیں۔

کبھی کبھی بھکاریوں کے خلاف بھی مہم چلائی جاتی تھی کہ وہ بھیک مانگنے سے باز رہیں اور محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالیں۔ آج کل بھکاری بنائے جاتے ہیں کہ مانگ کر اور مانگنے کے نئے طریقے ایجاد کرکے نہایت محنت سے اپنا اور اپنے اعزا کا پیٹ پالیں یا کاٹیں۔
وقت کے بدلنے کے ساتھ اقدار بھی بدلتی ہیں، تبدیلی آتی رہتی ہے۔ وہ جو کبھی مجرم کہلاتے تھے اب محرم کہلاتے ہیں۔ ایک نقطہ اپنا کام کرگیا ہے۔ دعا دینے والے اب دغا ہی دیتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والے اور چور بازاری کرنے والے اب بڑے باکمال ہوچکے ہیں۔ وہ یہ دھندے بند کرانے والوں کے ساتھ مل کر اب اپنا کام کرتے ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ گھر والا گھر نہیں اور کسی کا ڈر نہیں۔ مگر اب ان کا گھر والا گھر ہو تو انہیں ڈر نہیں لگتا۔ یہ اپنے تعلقات استعمال کرتے ہیں، اپنی مالی قربانی یاد کرواتے رہتے ہیں۔ یوں انہیں چشم کور سے ہی دیکھا جاتا ہے۔

منشیات کی روک تھام کرنے کے بجائے یہ مشورے دیے جاتے ہیں کہ ان سے ادویہ بنائی جائیں تاکہ منشیات کا کاروبار بھی باعزت روزگار میں شمار ہوجائے۔ ویسے منشیات فروش پہلے ہی بہت معزز اور باوقار گردانے جاتے ہیں۔ منشیات والے چاہتے ہیں کہ ہر کوئی اپنی ہی مستی میں مست رہے اور اپنی اپنی بلو کو سائیکل پر بیٹھنے کی ترغیب دے اور کبھی سیدھے ہی شادی کی فرمائش کردے۔ ویسے میرا جسم میری مرضی کے بعد یہ بہت خوش ہوں گے کہ اب شادی کی ضرورت ہی نہیں۔ اس پر مستزاد کہ ایسی بیہودہ گری کو ثقافت کا نام دے کر اس کی تصویر کشی کرنے والے چینلز کو سر آنکھوں پر بٹھا لیا جائے۔

یہ اب دشمن عناصر تو کہلاتے ہی نہیں بلکہ ہم انہیں اناج دشمن عناصر کہہ سکتے ہیں کہ یہ اکثر و بیشتر آٹے، چینی، سبزی، دال چاول، مطلب اناج کا بحران پیدا کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی اناج ہی کھاتے ہیں عوام کا اور دشمنی بھی اناج سے نہیں بلکہ عوام سے ہی کرتے ہیں۔ اللہ کرے کہ اناج کھانے والے راہِ ہداہت پر آجائیں، ورنہ ان کے دشمن باقی نہیں رہ پائیں گے۔ اور پھر بچوں کے دودھ والے بھی ان عناصر کے خلاف بھی مہم چلاتے پھریں گے اور کہتے پھریں گے کہ یہ میرے بچوں کا دودھ بھی پی گئے یا کھا گئے۔(بشکریہ ایکسپریس نیوز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں